سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

نیند اُس کی ہے، دماغ اُس کا ہے، راتیں اُس کی ہیںتیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

Editors' notes

مصرع: حالیؔ نے یادگارِ غالبؔ میں یوں درج کیا ہے: ؏ جس کے بازو پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 8 of 16 in “⁨سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۸ / ۱۶