دیوانِ غالبردیف ن

سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

۱

سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیںخاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں!

۲

یاد تھیں ہم کو بھی رنگارنگ بزم آرائیاںلیکن اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں

۳

تھیں بَنَات النّعشِ گردوں دن کو پردے میں نہاںشب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں

۴

قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبرلیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں

۵

سب رقیبوں سے ہوں نا خوش، پر زنانِ مصر سےہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہِ کنعاں ہو گئیں

۶

جُوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراقمیں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں

۷

ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقامقدرتِ حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں

۸

نیند اُس کی ہے، دماغ اُس کا ہے، راتیں اُس کی ہیںتیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

۹

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کُھل گیابلبلیں سُن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں

۱۰

وہ نگاہیں کیوں ہُوئی جاتی ہیں یا رب دل کے پار؟جو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں

۱۱

بس کہ روکا میں نے اور سینے میں اُبھریں پَے بہ پَےمیری آہیں بخیئہ چاکِ گریباں ہو گئیں

۱۲

واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب؟یاد تھیں جتنی دعائیں صرفِ درباں ہو گئیں

۱۳

جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیاسب لکیریں ہاتھ کی گویا، رگِ جاں ہو گئیں

۱۴

ہم موَحِّد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسُوممِلّتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں

۱۵

رنج سے خُوگر ہُوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنجمشکلیں مجھ پر پڑِیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

۱۶

یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاںدیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں

۱۲۰ / ۳۰۷