فزوں کی دوستوں نے حرصِ قاتل ذوقِ کشتن میں

ودیعت خانۂ بے دادِ کاوش ہائے مژگاں ہوںنگینِ نامِ شاہد ہے مِرا ہر قطرہ خوں تن میں

Editors' notes

مرا: اکثر قدیم نسخوں میں "مِرا" کی جگہ "مِرے" چھپا ہے اور شارحین نے بِلا چون و چرا اِسی طرح اِس کی شرح کر دی ہے۔ قدیم نسخوں میں سے صرف نسخۂ حمیدیہ میں "مِرا" چھپا ہے اور یہ درست معلوم ہوتا ہے۔ ممکن ہے غالبؔ نے بھی یہی لکھا ہو کیونکہ اِس سے شعر بہت صاف ہو جاتا ہے ورنہ یہ تعقید بہ درجۂ عیب معلوم ہوتی ہے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 6 of 12 in “⁨فزوں کی دوستوں نے حرصِ قاتل ذوقِ کشتن میں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۶ / ۱۲