فزوں کی دوستوں نے حرصِ قاتل ذوقِ کشتن میں
بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کیشبِ مہ ہو جو رکھ دیں پنبہ دیواروں کے روزن میں
Editors' notes
مصرع: نسخۂ رضا میں یہ مصرع یوں ہے: ؏ یہاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کی؟ ممکن ہے، سہوِ کتابت ہو۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 7 of 12 in “فزوں کی دوستوں نے حرصِ قاتل ذوقِ کشتن میں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۷ / ۱۲