دیوانِ غالبردیف ن
مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں
۱
مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںسوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیں
۲
مگر غبار ہُوئے پر، ہَوا اُڑا لے جائےوگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
۳
یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے؟کہ غیرِ جلوۂ گُل رہ گزر میں خاک نہیں
۴
بھلا اُسے نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آتااثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں
۵
خیالِ جلوۂ گُل سے خراب ہیں مے کششراب خانے کے دیوار و در میں خاک نہیں
۶
ہُوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہسوائے حسرتِ تعمیر، گھر میں خاک نہیں
۷
ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔکُھلا، کہ فائدہ عرضِ ہُنر میں خاک نہیں
۱۲۳ / ۳۰۷