دیوانِ غالبردیف ن

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟

۱

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں؟

۲

دَیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟

۳

جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روزآپ ہی ہو نظارہ سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں؟

۴

دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہتیرا ہی عکسِ رُخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں؟

۵

قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

۶

حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں؟

۷

واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضعراہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں؟

۸

ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہوں دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟

۹

غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیںروئیے زار زار کیا؟ کیجیے ہائے ہائے کیوں؟

۱۲۴ / ۳۰۷