دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟
غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیںروئیے زار زار کیا؟ کیجیے ہائے ہائے کیوں؟
Editors' notes
رضا: دہلی اردو اخبار، جلد ۱۵، نمبر ۷، مورخہ ۱۳ فروری ۱۸۵۳ء۔ — نسخۂ رضا
About this couplet
This is couplet 9 of 9 in “دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۹ / ۹