ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں

ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوںمیں دشتِ غم میں آہوئے صیّاد دیدہ ہوں

Editors' notes

غزل: یہ غزل متداول دیوان میں درج نہیں۔ مگر نسخۂ مہر میں غلام رسول مہر صاحب نے بغیر حوالے سے اس کو درج کیا ہے۔ — جویریہ مسعود

About this couplet

This is couplet 1 of 11 in “⁨ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۱۱