دیوانِ غالبردیف ن

ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں

۱

ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوںمیں دشتِ غم میں آہوئے صیّاد دیدہ ہوں

۲

ہوں دردمند، جبر ہو یا اختیار ہوگہ نالۂ کشیدہ، گہ اشکِ چکیدہ ہوں

۳

نے سُبحہ سے علاقہ نہ ساغر سے رابطہمیں معرضِ مثال میں دستِ بریدہ ہوں

۴

ہوں خاکسار پر نہ کسی سے ہے مجھ کو لاگنے دانۂ فتادہ ہوں، نے دامِ چیدہ ہوں

۵

جو چاہیے، نہیں وہ مری قدر و منزلتمیں یوسفِ بہ قیمتِ اوّل خریدہ ہوں

۶

ہر گز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہہوں میں کلامِ نُغز، ولے نا شنیدہ ہوں

۷

اہلِ وَرَع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیلپر عاصیوں کے زمرے میں مَیں برگزیدہ ہوں

۸

ہوں گرمیٔ نشاطِ تصوّر سے نغمہ سنجمیں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں

۹

جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہناز بس کہ تلخیٔ غمِ ہجراں چشیدہ ہوں

۱۰

ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاںخارِ الم سے پشت بہ دنداں گزیدہ ہوں

۱۱

پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں

۱۲۶ / ۳۰۷