ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
نے سُبحہ سے علاقہ نہ ساغر سے رابطہمیں معرضِ مثال میں دستِ بریدہ ہوں
Editors' notes
رابطہ: نسخۂ مہر میں "رابطہ" کی جگہ "واسطہ"۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 3 of 11 in “ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۳ / ۱۱