دیوانِ غالبردیف ن

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں

۱

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤںرکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں

۲

دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کُن کے پاؤںہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیر زن کے پاؤں

۳

بھاگے تھے ہم بہت سو، اسی کی سزا ہے یہہو کر اسیر دابتے ہیں راہ زن کے پاؤں

۴

مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دورتن سے سوا فِگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں

۵

اللّٰہ رے ذوقِ دشت نوردی کہ بعدِ مرگہلتے ہیں خود بہ خود مرے، اندر کفن کے، پاؤں

۶

ہے جوشِ گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرفاڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغِ چمن کے پاؤں

۷

بے چارہ کتنی دور سے آیا ہے، شیخ جیکعبے میں، کیوں دبائیں نہ ہم برہمن کے پاؤں

۸

شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیںدکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں

۹

غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزہ نہ ہوپیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں سخن کے پاؤں

۱۲۷ / ۳۰۷