دیوانِ غالبردیف ر

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر

۱

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیرجانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟

۲

کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن"جانوں کسی کے دل کی میں کیوں کر کہے بغیر"

۳

کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میںلیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر

۴

جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہمسر جائے یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر

۵

چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجناچھوڑے نہ خلق گو مجھے کافَر کہے بغیر

۶

مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کامچلتا نہیں ہے دُشنہ و خنجر کہے بغیر

۷

ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگوبنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

۸

بہرا ہوں میں تو چاہیے دُونا ہوں اِلتفاتسنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر

۹

غالبؔ نہ کر حضور میں تُو بار بار عرضظاہر ہے تیرا حال سب اُن پر کہے بغیر

۶۸ / ۳۰۷