دیوانِ غالبردیف ر

کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کر

۱

کیوں جل گیا نہ، تابِ رخِ یار دیکھ کرجلتا ہوں اپنی طاقتِ دیدار دیکھ کر

۲

آتش پرست کہتے ہیں اہلَ جہاں مجھےسر گرمِ نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر

۳

کیا آبروئے عشق، جہاں عام ہو جفارکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

۴

آتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سےمرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

۵

ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلقلرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر

۶

وا حسرتا! کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھہم کو حریصِ لذّتِ آزار دیکھ کر

۷

بِک جاتے ہیں ہم آپ، متاعِ سخن کے ساتھلیکن عیارِ طبعِ خریدار دیکھ کر

۸

زُنّار باندھ، سبحۂ صد دانہ توڑ ڈالرہرو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر

۹

ان آبلوں سے پاؤں کے، گھبرا گیا تھا میںجی خوش ہوا ہے راہ کو پُر خار دیکھ کر

۱۰

کیا بد گماں ہے مجھ سے، کہ آئینے میں مرےطوطی کا عکس سمجھے ہے زنگار دیکھ کر

۱۱

گرنی تھی ہم پہ برقِ تجلّی، نہ طور پردیتے ہیں بادہ "ظرفِ قدح خوار" دیکھ کر

۱۲

سر پھوڑنا وہ! "غالبِؔ شوریدہ حال" کایاد آگیا مجھے تری دیوار دیکھ کر

۶۹ / ۳۰۷