دیوانِ غالبردیف ر

ہے بس کہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اور

۱

ہے بس کہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اورکرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اور

۲

یا رب ! وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری باتدے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

۳

ابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوندہے تیر مقرّر مگر اس کی ہے کماں اور

۴

تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم، جب اٹھیں گےلے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

۵

ہر چند سُبُک دست ہوئے بت شکنی میںہم ہیں، تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور

۶

ہے خوںِ جگر جوش میں، دل کھول کے روتاہوتے جو کئی دیدۂ خونبانہ فشاں اور

۷

مرتا ہوں اِس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائےجلاّد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ "ہاں اور"

۸

لوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکاہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اور

۹

لیتا، نہ اگر دل تمھیں دیتا، کوئی دم چینکرتا، جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اور

۱۰

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالےرُکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

۱۱

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھّےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور

۷۱ / ۳۰۷