دیوانِ غالبردیف ر
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
۱
لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پرمیں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر
۲
نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائیسفیدی دیدۂ یعقوب کی پھِرتی ہے زنداں پر
۳
دل خونیں، جگر بے صبر و فیضِ عشق مستغنی!الٰہی یک قیامتِ خاور آ ٹوٹے بدخشاں پر
۴
فنا "تعلیمِ درسِ بے خودی" ہوں اُس زمانے سےکہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر
۵
فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویشِ مرہم سےبہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمک داں پر
۶
نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومارِ ناز ایساکہ پشتِ چشم سے جس کی نہ ہووے مُہر عنواں پر
۷
مجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ، یاد آیاکہ فرقت میں تری، آتش برستی تھی گلِستاں پر
۸
بہ جُز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہو گاقیامت اِک ہوائے تند ہے خاکِ شہیداں پر
۹
نہ لڑ ناصح سے، غالبؔ، کیا ہوا گر اس نے شدّت کیہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
۷۰ / ۳۰۷