دیوانِ غالبردیف ر
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
مٹ جائےگا سَر، گر ترا پتھر نہ گھِسے گاہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ "جاؤں؟"مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گےکیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارفؔکیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کےپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کےکرتا مَلَکُ الموت تقاضا کوئی دن اور
مجھ سے تمھیں نفرت سہی، نیّرؔ سے لڑائیبچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و نا خوشکرنا تھا جواں مرگ، گزارا کوئی دن اور
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔقسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
۷۴ / ۳۰۷