دیوانِ غالبردیف ر

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور

۱

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور

۲

مٹ جائےگا سَر، گر ترا پتھر نہ گھِسے گاہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور

۳

آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ "جاؤں؟"مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور

۴

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گےکیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

۵

ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارفؔکیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

۶

تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کےپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور

۷

تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کےکرتا مَلَکُ الموت تقاضا کوئی دن اور

۸

مجھ سے تمھیں نفرت سہی، نیّرؔ سے لڑائیبچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور

۹

گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و نا خوشکرنا تھا جواں مرگ، گزارا کوئی دن اور

۱۰

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔقسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور

۷۴ / ۳۰۷