لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور

ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارفؔکیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

Editors' notes

عارف: مرزا زین العابدین خان عارف اپریل ۱۸۵۲ میں فوت ہوئے تھے۔ یہ غزل انھی کا مرثیہ ہے۔ — نسخۂ رضا

About this couplet

This is couplet 5 of 10 in “⁨لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور⁩” in the section Ghazals — Radeef Re, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۵ / ۱۰