دیوانِ غالبردیف س
کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاس
۱
کب فقیروں کو رسائی بُتِ مے خوار کے پاستونبے بو دیجیے مے خانے کی دیوار کے پاس
۲
مُژدہ، اے ذَوقِ اسیری! کہ نظر آتا ہےدامِ خالی، قفَسِ مُرغِ گِرفتار کے پاس
۳
جگرِ تشنۂ آزار، تسلی نہ ہواجُوئے خُوں ہم نے بہائی بُنِ ہر خار کے پاس
۴
مُند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہَے ہَے!خُوب وقت آئے تم اِس عاشقِ بیمار کے پاس
۵
مَیں بھی رُک رُک کے نہ مرتا، جو زباں کے بدلےدشنہ اِک تیز سا ہوتا مِرے غم خوار کے پاس
۶
دَہَنِ شیر میں جا بیٹھیے، لیکن اے دلنہ کھڑے ہو جیے خُوبانِ دل آزار کے پاس
۷
دیکھ کر تجھ کو، چمن بس کہ نُمو کرتا ہےخُود بخود پہنچے ہے گُل گوشۂ دستار کے پاس
۸
مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی، ہَے ہَے!بیٹھنا اُس کا وہ آ کر تری دِیوار کے پاس
۸۰ / ۳۰۷