دیوانِ غالبردیف ز

نہ گل نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز

۱

نہ گُلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ سازمیں ہوں اپنی شکست کی آواز

۲

تو اور آرائشِ خمِ کاکلمیں اور اندیشہ ہائے دور دراز

۳

لافِ تمکیں، فریبِ سادہ دلیہم ہیں اور راز ہائے سینہ گداز

۴

ہوں گرفتارِ الفتِ صیّادورنہ باقی ہے طاقتِ پرواز

۵

وہ بھی دن ہو، کہ اس ستم گر سےناز کھینچوں، بہ جائے حسرتِ ناز

۶

نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خونجس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گل باز

۷

اے ترا غمزہ یک قلم انگیزاے ترا ظلم سر بہ سر انداز

۸

تو ہوا جلوہ گر، مبارک ہو!ریزشِ سجدۂ جبینِ نیاز

۹

مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوامیں غریب اور تو غریب نواز

۱۰

اسدؔ اللّٰہ خاں تمام ہوااے دریغا! وہ رندِ شاہد باز

۷۹ / ۳۰۷