ہوئی ہے بس کہ صرفِ مشقِ تمکینِ بہار آتش
نہ لیوے گر خسِ جَوہر طراوت سبزۂ خط سےلگا دے خانۂ آئینہ میں رُوئے نگار آتش
Editors' notes
اشعار: متداول دیوان میں یہ غزل صرف دو اشعار پر مشتمل ہے۔ مطلع اور باقی اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعودلگا دے: بیشتر نسخوں میں "لگا دے" کی جگہ "لگاوے" چھپا ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 4 of 9 in “ہوئی ہے بس کہ صرفِ مشقِ تمکینِ بہار آتش” in the section Ghazals — Radeef Sheen, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۴ / ۹