ہوئی ہے بس کہ صرفِ مشقِ تمکینِ بہار آتش
فروغِ حُسن سے ہوتی ہے حلِّ مُشکلِ عاشقنہ نکلے شمع کے پاسے، نکالے گرنہ خار آتش
Editors' notes
ہوتی: ممکن ہے غالبؔ نے یہاں "ہوتا ہے" کہا ہو اور "ہوتی ہے" سہوِ مرتبین ہو۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 5 of 9 in “ہوئی ہے بس کہ صرفِ مشقِ تمکینِ بہار آتش” in the section Ghazals — Radeef Sheen, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۵ / ۹