جاتا ہوں جدھر سب کی اُٹھے ہے اُدھر انگشت
افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نےجن لوگوں کی تھی درخورِ عقدِ گہر انگشت
Editors' notes
اشعار: مروجہ دیوان میں یہ آخری تین اشعار بطور غزل درج ہیں۔ — جویریہ مسعوددنداں: نسخۂ نظامی میں اگرچہ "دِیداں" ہے لیکن معانی کے لحاظ سے "دنداں" مناسب ہے۔ "دِیداں" سہوِ کتابت ممکن ہے۔ — اعجاز عبید "دِیداں" "دودہ" کا جمع ہے، اس سے مراد کیڑے ہیں۔ تب اس کا مطلب بنتا ہے کہ انگلیوں کو قبر کی کیڑوں کا خوراک بنا دیا۔ نسخۂ مہر اور نسخۂ علامہ آسی میں لفظ "دِیداں" ہی آیا ہے۔ ہاں، البتہ نسخۂ حمیدیہ (شائع کردہ مجلسِ ترقی ادب لاہور، ۱۹۸۳)میں لفظ "دنداں" آیا ہے۔ — جویریہ مسعود مزید: نسخۂ نظامی اور بعض دوسرے نسخوں میں "دنداں" کے بجائے "دِیداں" چھپا ہے۔ "دُودہ" عربی میں کیڑے کو کہتے ہیں۔ اِس کی جمع "دود" ہے اور جمع الجمع "دِیدان"۔ یہ بات خلاف قیاس معلوم ہوتی ہے کہ غالبؔ نے "دِیداں" لکھا ہو۔ اس میں معنوی سقم یہ ہے کہ قبر میں پورا جسم ہی کیڑوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ انگلی کی کوئی تخصیص نہیں، نہ خاص طور پر انگلی کے گوشت سے کیڑوں کی زیادہ رغبت کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ یہ کسی مرے ہوئے محبوب کا ماتم بھی نہیں ہے، بلکہ زمانے کی ناقدری کا ماتم ہے کہ جو انگلی عقدِ گہر کے قابل تھی، وہ حسرت و افسوس کے عالَم میں دانتوں میں دبی ہے۔ خوبصورت دانتوں کو موتیوں کی لڑی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اِس لیے موتی کے زیور کی رعایت ملحوظ رکھی گئی۔ کیڑوں کو موتیوں سے تشبیہ دینا مذاقِ سلیم کو مکروہ معلوم ہوتا ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 8 of 10 in “جاتا ہوں جدھر سب کی اُٹھے ہے اُدھر انگشت” in the section Ghazals — Radeef Te, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۸ / ۱۰