جاتا ہوں جدھر سب کی اُٹھے ہے اُدھر انگشت
کافی ہے نشانی تِری ، چھلّے کا نہ دیناخالی مجھے دِکھلا کے بہ وقتِ سفر انگشت
Editors' notes
تری: بعض نسخوں میں یہاں "تِری" اور بعض میں "تِرا" چھپا ہے۔ متن میں "تِری" کو ترجیح دی گئی ہے۔ اِس صورت میں علامتِ وقف "تِری" کے بعد ہے۔ دوسری صورت میں علامتِ وقف "نشانی" کے بعد ہونی چاہیے یعنی ؏ کافی ہے نشانی، تِرا چھلے کا نہ دینا۔ متن کے اندراج کا مفہوم یہ ہے کہ تیری یہی نشانی میرے لیے کافی ہے کہ رخصت کے وقت جب میں نے تجھ سے نشانی کا چھلّا مانگا تو تُو نے مجھے ایک ادائے خاص سے ٹھینگا دکھا دیا۔ نسخۂ نظامی میں بھی اِس متن کے مطابق "تِری" ہی چھپا ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 9 of 10 in “جاتا ہوں جدھر سب کی اُٹھے ہے اُدھر انگشت” in the section Ghazals — Radeef Te, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۹ / ۱۰