آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست

چشم بندِ خلق غیر از نقشِ خود بینی نہیںآئینہ ہے قالبِ خشتِ در و دیوارِ دوست

Editors' notes

اشعار: مقطع سےپہلے چار اشعار نسخۂ رضا سے انتخاب ہیں۔ — جویریہ مسعود۔

About this couplet

This is couplet 11 of 15 in “⁨آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست⁩” in the section Ghazals — Radeef Te, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱۱ / ۱۵