دیوانِ غالبردیف ت

آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست

۱

آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوستدودِ شمعِ کشتہ تھا شاید خطِ رخسارِ دوست

۲

اے دلِ نا عاقبت اندیش! ضبطِ شوق کرکون لا سکتا ہے تابِ جلوۂ دیدارِ دوست

۳

خانہ ویراں سازیٔ حیرت! تماشا کیجیےصورتِ نقشِ قدم ہوں رَفتۂ رفتارِ دوست

۴

عشق میں بیدادِ رشکِ غیر نے مارا مجھےکُشتۂ دشمن ہوں آخر، گرچہ تھا بیمارِ دوست

۵

چشمِ ما روشن، کہ اس بے درد کا دل شاد ہےدیدۂ پر خوں ہمارا ساغرِ سرشارِ دوست

۶

غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میںبے تکلّف دوست ہو جیسے کوئی غم خوارِ دوست

۷

تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلکمجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدۂ دیدارِ دوست

۸

جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعفِ دماغسَر کرے ہے وہ حدیثِ زلفِ عنبر بارِ دوست

۹

چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگرہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخیٔ گفتارِ دوست

۱۰

مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجیےیا بیاں کیجے سپاسِ لذّتِ آزارِ دوست

۱۱

چشم بندِ خلق غیر از نقشِ خود بینی نہیںآئینہ ہے قالبِ خشتِ در و دیوارِ دوست

۱۲

برقِ خرمن زارِ گوہر ہے نگاہِ تیزیاںاشک ہو جاتے ہیں خشک از گرمیٔ رفتارِ دوست

۱۳

ہے سوا نیزے پہ اس کے قامتِ نوخیز سےآفتابِ روزِ محشر ہے گلِ دستارِ دوست

۱۴

لغزشِ مستانہ و جوش تماشا ہے اسدآتشِ مے سے بہارِ گرمیٔ بازار دوست

۱۵

یہ غزل اپنی، مجھے جی سے پسند آتی ہےآپہے ردیفِ شعر میں غالبؔ! ز بس تکرارِ دوست

۶۱ / ۳۰۷