آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست
خانہ ویراں سازیٔ حیرت! تماشا کیجیےصورتِ نقشِ قدم ہوں رَفتۂ رفتارِ دوست
Editors' notes
رفتہ: شاید بعض حضرات اس کو "رُفتہ" پڑھتے ہیں۔ یقین ہے کہ غالبؔ کا لفظ یہاں "رَفتہ" ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 3 of 15 in “آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست” in the section Ghazals — Radeef Te, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۳ / ۱۵