آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست

تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلکمجھ کو دیتا ہے پیامِ وعدۂ دیدارِ دوست

About this couplet

This is couplet 7 of 15 in “⁨آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست⁩” in the section Ghazals — Radeef Te, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۷ / ۱۵