آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست

چپکے چپکے مجھ کو روتے دیکھ پاتا ہے اگرہنس کے کرتا ہے بیانِ شوخیٔ گفتارِ دوست

About this couplet

This is couplet 9 of 15 in “⁨آمدِ خط سے ہوا ہے سرد جو بازارِ دوست⁩” in the section Ghazals — Radeef Te, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۹ / ۱۵