دیوانِ غالبردیف و

آئی اگر بلا، تو جگہ سے ٹلے نہیں

۱

آئی اگر بلا، تو جگہ سے ٹلے نہیںایراہی دے کے ہم نے بچایا ہے کِشت کو

۲

کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیںبھولا ہوں حقِّ صحبتِ اہلِ کُنِشت کو

۳

طاعت میں تا، رہے نہ مے و انگبیں کی لاگدوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

۴

ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسمِ ثواب سےٹیڑھا لگا ہے قط قلمِ سر نَوِشت کو

۵

غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لَہنا نہیں مجھےخِرمن جلے اگر نہ مَلخ کھائے کِشت کو

۱۲۹ / ۳۰۷