دیوانِ غالبردیف و

وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو

۱

وارَستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہوکیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو

۲

چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کاہے دل پہ بار، نقشِ محبّت ہی کیوں نہ ہو

۳

ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہہر چند بر سبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو

۴

پیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر درد کی دوایوں ہو تو چارۂ غمِ الفت ہی کیوں نہ ہو

۵

ڈالا نہ بےکسی نے کسی سے معاملہاپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو

۶

ہے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیالہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

۷

ہنگامۂ زبونیٔ ہمّت ہے، انفعالحاصل نہ کیجے دہر سے، عبرت ہی کیوں نہ ہو

۸

وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیںاپنے سے کر، نہ غیر سے، وحشت ہی کیوں نہ ہو

۹

مٹتا ہے فوتِ فرصتِ ہستی کا غم کوئی؟عمرِ عزیز صَرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو

۱۰

اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔاس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو

۱۳۰ / ۳۰۷