دیوانِ غالبردیف و

قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو

۱

قفس میں ہوں گر اچّھا بھی نہ جانیں میرے شیون کومرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو

۲

نہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہےنہ دی ہوتی خدا یا آرزوئے دوست، دشمن کو

۳

نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پرکیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگانِ سوزن کو

۴

خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میںکبھی میرے گریباں کو، کبھی جاناں کے دامن کو

۵

ابھی ہم قتل گہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیںنہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے تَوسن کو

۶

ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کاکیا بے تاب کاں میں، جنبشِ جوہر نے آہن کو

۷

خوشی کیا، کھیت پر میرے، اگر سو بار ابر آوےسمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو

۸

وفاداری بہ شرطِ استواری اصلِ ایماں ہےمَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

۹

شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کوجہاں تلوار کو دیکھا، جھکا دیتا تھا گردن کو

۱۰

نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتارہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو

۱۱

سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کےجگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو

۱۲

مرے شاہِ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالبؔفریدون و جم و کَیخُسرو و داراب و بہمن کو

۱۳۱ / ۳۰۷