تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو

کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیںمانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو

Editors' notes

ناشناس: "حق ناسپاس" نسخۂ نظامی میں ہے، "حق ناشناس" حسرت، مہر اور عرشی میں۔ "ناسپاس" کتابت کی غلطی بھی ممکن ہے۔ — اعجاز عبید مزید: نسخۂ نظامی طبع اول میں "حق ناسپاس" چھپا ہے۔ ایک آدھ اور قدیم نسخے میں بھی یوں ہی مِلا ہے مگر بعض دوسرے قدیم نسخوں میں "ناشناس" بھی چھپا ہے۔ جدید نسخوں میں مالک رام نے متن میں "ناسپاس" اور طباطبائیؔ، حسرتؔ موہانی، عرشیؔ اور مہرؔ وغیرہم نے "ناشناس" درج کیا ہے۔ یہی درست معلوم ہوتا ہے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 3 of 7 in “⁨تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو⁩” in the section Ghazals — Radeef Wao, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۳ / ۷