دیوانِ غالبردیف و
تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
۱
تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہومجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
۲
بچتے نہیں مواخذۂ روزِ حشر سےقاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
۳
کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیںمانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو
۴
ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے، ایک تارمرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو
۵
جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قیدمسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو
۶
سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف، سب درستلیکن خدا کرے وہ تِرا جلوہ گاہ ہو
۷
غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیںدنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو
۱۳۴ / ۳۰۷