گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بہ قولِ حضور"فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو"
Editors' notes
حضور: حضور: بہادر شاہ ظفر۔ اگلا مصرعہ ظفر کا ہی ہے جس کی طرح میں غالبؔ نے درباری مشاعرے کے لیے یہ غزل کہی تھی۔ — اعجاز عبید
About this couplet
This is couplet 10 of 10 in “گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو” in the section Ghazals — Radeef Wao, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱۰ / ۱۰