دیوانِ غالبردیف و

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو

۱

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہوکہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو

۲

ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصالکہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں؟ ہو تو کیوں کر ہو

۳

ادب ہے اور یہی کشمکش، تو کیا کیجےحیا ہے اور یہی گومگو تو کیوں کر ہو

۴

تمھیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کابتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیوں کر ہو

۵

الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہجو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیوں کر ہو

۶

جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا ساوہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیوں کر ہو

۷

ہمیں پھر ان سے امید اور انھیں ہماری قدرہماری بات ہی پوچھیں نہ وو تو کیوں کر ہو

۸

غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کانہ مانے دیدۂ دیدار جو، تو کیوں کر ہو

۹

بتاؤ اُس مِژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قراریہ نیش ہو رگِ جاں میں فِرو تو کیوں کر ہو

۱۰

مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بہ قولِ حضور"فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو"

۱۳۵ / ۳۰۷