دیوانِ غالب · ردیف ورہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو۱رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہوہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو۲بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیےکوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو۳پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو بیمارداراور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو۱۳۷ / ۳۰۷