دیوانِ غالبخمسہ: تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر
خمسہ: تضمین بر غزل بہادر شاہ ظفر
گھستے گھستے پاؤں کی زنجیر آدھی رہ گئیمر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئیسب ہی پڑھتا کاش، کیوں تکبیر آدھی رہ گئی"کھنچ کے، قاتل! جب تری شمشیر آدھی رہ گئیغم سے جانِ عاشقِ دل گیر آدھی رہ گئی"
بیٹھ رہتا لے کے چشمِ پُر نم اس کے رو بروکیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو بروبات کرنے میں نکلتا ہے دم اس کے رو برو"کہہ سکے ساری حقیقت کب ہم اس کے رو بروہم نشیں! آدھی ہوئی تقریر، آدھی رہ گئی"
تو نے دیکھا! مجھ پہ کیسی بن گئی، اے راز دار!خواب و بیداری پہ کب ہے آدمی کو اختیارمثلِ زخم آنکھوں کو سی دیتا، جو ہوتا ہوشیار"کھینچتا تھا رات کو میں خواب میں تصویرِ یارجاگ اٹھا جو، کھینچنی تصویر آدھی رہ گئی"
غم نے جب گھیرا، تو چاہا ہم نے یوں، اے دل نواز!مستیٔ چشمِ سیہ سے چل کے ہوویں چارہ سازتُو صدائے پا سے جاگا تھا، جو محوِ خوابِ ناز"دیکھتے ہی اے ستم گر! تیری چشمِ نیم بازکی تھی پوری ہم نے جو تدبیر، آدھی رہ گئی"
اس بتِ مغرور کو کیا ہو کسی پر التفاتجس کے حسنِ روز افزوں کی یہ اک ادنیٰ ہے باتماہِ نو نکلے پہ گزری ہوں گی راتیں پان سات"اس رُخِ روشن کے آگے ماہِ یک ہفتہ کی راتتابشِ خورشیدِ پُر تنویر آدھی رہ گئی"
تا مجھے پہنچائے کاہش، بختِ بد ہے گھات میںہاں فراوانی! اگر کچھ ہے، تو ہے آفات میںجُز غمِ داغ و الم، گھاٹا ہے ہر اک بات میں"کم نصیبی اس کو کہتے ہیں کہ میرے ہات میںآتے ہی خاصیّتِ اکسیر آدھی رہ گئی"
سب سے یہ گوشہ کنارے ہے، گلے لگ جا مِرےآدمی کو کیا پکارے ہے، گلے لگ جا مِرےسر سے گر چادر اتارے ہے، گلے لگ جا مِرے"مانگ کیا بیٹھا سنوارے ہے، گلے لگ جا مِرےوصل کی شب، اے بتِ بے پیر آدھی رہ گئی"
میں یہ کیا جانوں کہ وہ کس واسطے ہوں پھِر گئےپھر نصیب اپنا، انھیں جاتے سنا، جوں پھِر گئےدیکھنا قسمت وہ آئے اور پھر یوں پھِر گئے"آ کے آدھی دور، میرے گھر سے وہ کیوں پھِر گئےکیا کشش میں دل کی اب تاثیر آدھی رہ گئی"
ناگہاں یاد آگئی ہے مجھ کو، یا رب! کب کی باتکچھ نہیں کہتا کسی سے، سن رہا ہوں سب کی باتکس لیے تجھ سے چھپاؤں، ہاں! وہ پرسوں شب کی بات"نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی باتخط میں آدھی ہو سکی، تحریر آدھی رہ گئی"
ہو تجلّی برق کی صورت میں، ہے یہ بھی غضبپانچ چھ گھنٹے تو ہوتی فرصتِ عیش و طربشام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب"پاس میرے وہ جو آئے بھی، تو بعد از نصف شبنکلی آدھی حسرت، اے تقدیر! آدھی رہ گئی"
تم جو فرماتے ہو، دیکھ اے غالبِؔ آشفتہ سرہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے، گیا کیوں اُس کے گھر؟جان کی پاؤں اماں، باتیں یہ سب سچ ہیں مگر"دل نے کی ساری خرابی، لے گیا مجھ کو ظفرؔواں کے جانے میں مِری توقیر آدھی رہ گئی"
۲۶۲ / ۳۰۷