دیوانِ غالبمثنوی
پتنگِ کاغذی
۱
ایک دن مثلِ پتنگِ کاغذیلے کے دل سر رشتۂ آزادگی
۲
خود بخود کچھ ہم سے کَنیانے لگااس قدر بگڑا کہ سر کھانے لگا
۳
میں نے کہا اے دل، ہوائے دلبراںبس کہ تیرے حق میں رکھتی ہے زیاں
۴
بیچ میں ان کے نہ آنا زینہاریہ نہیں ہیں گے کِسے کے یارِ غار
۵
گورے پنڈے پر نہ کر ان کے نظرکھینچ لیتے ہیں یہ ڈورے ڈال کر
۶
اب تو مِل جائے گی ان سے تیری گانٹھلیکن آخر کو پڑے گی ایسی سانٹھ
۷
سخت مشکل ہو گا سلجھانا تجھےقہر ہے، دل ان میں الجھانا تجھے
۸
یہ جو محفل میں بڑھاتے ہیں تجھےبھول مت اس پر اُڑاتے ہیں تجھے
۹
ایک دن تجھ کو لڑا دیں گے کہیںمفت میں ناحق کٹا دیں گے کہیں
۱۰
دل نے سن کر، کانپ کر، کھا پیچ و تابغوطے میں جا کر، دیا کٹ کر جواب
۱۱
رشتۂ در گردنم افگندہ دوستمی بُرد ہر جا کہ خاطر خواہِ اوست
۱۲
اب تو مِل جائے گی ان سے تیری سانٹھلیکن آخر کو پڑے گی ایسی گانٹھ
۲۶۱ / ۳۰۷