دیوانِ غالبقصائد
ایلین براؤن
ملاذِ کشور و لشکر، پناہِ شہر و سپاہجنابِ عالی ایلن برون والا جاہ
بلند رتبہ وہ حاکم وہ سرفراز امیرکہ باج تاج سے لیتا ہے جس کا طرفِ کلاہ
وہ محض رحمت و رافت کہ بہرِ اہلِ جہاںنیابتِ دمِ عیسیٰ کرے ہے جس کی نگاہ
وہ عین عدل کہ دہشت سے جس کی پرسش کیبنے ہیں شعلۂ آتش انیسِ پَرّۂ کاہ
زمیں سے سودۂ گوہر اٹھے بجائے غبارجہاں ہو توسنِ حشمت کا اس کے جولاں گاہ
وہ مہرباں ہو تو انجم کہیں "الٰہی شکر"وہ خشم گیں ہو تو گردوں کہے "خدا کی پناہ"
یہ اس کے عدل سے اضداد کو ہے آمیزشکہ دشت و کوہ کے اطراف میں، بہر سرِ راہ
ہزبر پنجے سے لیتا ہے کام شانے کاکبھی جو ہوتی ہے الجھی ہوئی دُمِ رو باہ
نہ آفتاب، ولے آفتاب کا ہم چشمنہ بادشاہ، ولے مرتبے ہیں ہمسرِ شاہ
خدا نے اس کو دیا ایک خوبرو فرزندستارہ جیسے چمکتا ہوا بہ پہلوئے ماہ
زہے ستارۂ روشن کہ جو اسے دیکھےشعاعِ مہرِ درخشاں ہو اس کا تارِ نگاہ
خدا سے ہے یہ توقع کہ عہدِ طفلی میںبنے گا شرق سے تا غرب اس کا بازی گاہ
جوان ہوکے کرے گا یہ وہ جہان بانیکہ تابع اس کے ہوں روز و شب سپید و سیاہ
کہے گی خلق اسے داورِ سپہر شکُوہلکھیں گے لوگ اسے خسرو ستارہ سپاہ
عطا کرے گا خداوندِ کار ساز اسےروانِ روشن و خوئے خوش و دلِ آگاہ
ملے گی اس کو وہ عقلِ نہفتہ داں کہ اسےپڑے نہ قطعِ خصومت میں احتیاجِ گواہ
یہ ترکتاز سے برہم کرے گا کشورِ روسیہ لے گا بادشہِ چیں سے چھین، تخت و کلاہ
سنینِ عیسوی اٹھارہ سو اور اٹھاونیہ چاہتے ہیں جہاں آفریں سے شام و پگاہ
یہ جتنے سیکڑے ہیں سب ہزار ہو جاویںدراز اس کی ہو عمر اس قدر، سخن کوتاہ
امید وارِ عنایات "شِو نرائن"کہ آپ کا ہے نمک خوار اور دولت خواہ
یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عزّ و جاہ کے ساتھتمھیں اور اس کو سلامت رکھے سدا، اللّٰہ
۲۵۳ / ۳۰۷