دیوانِ غالبقصائد
والیٔ الور کی سالگرہ پر
گئی ہیں سال کے رشتے میں بیس بار گرہابھی حساب میں باقی ہیں سو ہزار گرہ
گرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بہ روزِ شمارہوا کرے گی ہر اک سال، پیش کار گرہ
یقین جان! برس گانٹھ کا جو ہے تاگایہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ
گرہ سے اَور گرہ کی امید کیوں نہ پڑےکہ ہر گرہ کی گرہ میں ہیں تین چار گرہ
دِکھا کے رشتہ کسی جوتشی سے پوچھا تھاکہ دیکھو کتنی اٹھا لائے گا یہ تار گرہ
کہا کہ چرخ پہ ہم نے گنی ہیں نو گرہیںجو یاں گنیں گے تو پاویں گے نو ہزار گرہ
خود آسماں ہے مہا راجا راؤ پر صدقےکرے گا سیکڑوں، اس تار پر نثار گرہ
وہ راؤ راجا بہادر کہ حکم سے جن کےرواں ہو تار پہ فی الفور دانہ وار گرہ
انھیں کی سالگرہ کے لیے ہے سال بہ سالکہ لائے غیب سے غنچوں کی نو بہار گرہ
انھیں کی سالگرہ کے لیے بناتا ہےہوا میں بوند کو ابرِ تگرگ بار گرہ
انھیں کی سالگرہ کی یہ شادمانی ہےکہ ہو گئے ہیں گہر ہائے شاہ وار گرہ
انھیں کی سالگرہ کے لیے ہے یہ توقیرکہ بن گئے ہیں ثمر ہائے شاخ سار گرہ
سن، اے ندیم! برس گانٹھ کے یہ تاگے نےتجھے بتاؤں کہ کیوں کی ہے یہ اختیار گرہ
پئے دعائے بقائے جنابِ فیض مآبلگے گی اس میں ثوابت کی استوار گرہ
ہزار دانہ کی تسبیح چاہتا ہے یہیبلا مبالغہ درکار ہے ہزار گرہ
عطا کیا ہے خدا نے یہ جاذبہ اس کوکہ چھوڑتا ہی نہیں رشتہ زینہار گرہ
کشادہ رخ نہ پھرے کیوں جب اس زمانے میںبچے نہ از پے بندِ نقابِ یار گرہ
متاعِ عیش کا ہے قافلہ چلا آتاکہ جادہ رشتہ ہے اور ہے شتر قطار گرہ
خدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو، دستگاہِ سخنکروڑ ڈھونڈ کے لاتا ہے خاکسار گرہ
کہاں مجالِ سخن؟ سانس لے نہیں سکتاپڑی ہے دل میں مرے، غم کی پیچ دار گرہ
گرہ کا نام لیا پر نہ کر سکا کچھ باتزباں تک آ کے، ہوئی اُور استوار گرہ
کھلے یہ گانٹھ تو البتّہ دم نکل جاوےبری طرح سے ہوئی ہے گلے کا ہار گرہ
اِدھر نہ ہو گی توجہ حضور کی جب تککبھی کسے سے کھلے گی نہ زینہار گرہ
دعا ہے یہ کہ مخالف کے دل میں از رہِ بغضپڑی ہے یہ جو بہت سخت نابکار گرہ
دل اس کا پھوڑ کے نکلے بہ شکل پھوڑے کیخدا کرے کہ کرے اس طرح اُبھار گرہ
۲۵۴ / ۳۰۷