دیوانِ غالبقصائد

گزارشِ مصنّف بہ حضورِ شاہ

۱

اَے شَہنشاہِ آسماں اَورنگاَے جہان دارِ آفتاب آثار

۲

تھا میں اِک بے نَوَائے گوشہ نشیںتھا میں اِک درد مندِ سینہ فگار

۳

تُم نے مجھ کو جو آبرُو بخشیہوئی میری وہ گرمیٔ بازار

۴

کہ ہوا مجھ سا ذرۂ ناچیزرُو شناسِ ثوابت و سیّار

۵

گر چہ از رُوئے ننگ و بے ہُنریہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار

۶

کہ گر اپنے کو میں کہوں خاکیجانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار

۷

شاد ہوں لیکن اپنے جی میں، کہ ہوںبادشہ کا غلامِ کار گزار

۸

خانہ زاد اور مُرید اور مداحتھا ہمیشہ سے یہ عریضہ نگار

۹

بارے نوکر بھی ہو گیا صد شُکرنسبتیں ہو گئیں مُشخّص چار

۱۰

نہ کہُوں آپ سے تو کس سے کہوںمُدعائے ضروری الاظہار

۱۱

پِیر و مُرشد! اگرچہ مجھ کو نہیںذوقِ آرائشِ سر و دستار

۱۲

کچھ تو جاڑے میں چاہیے آخرتا نہ دے بادِ زَمہریر آزار

۱۳

کیوں نہ درکار ہو مجھے پوششجسم رکھتا ہوں، ہے اگرچہ نَزار

۱۴

کچھ خریدا نہیں ہے اب کے سالکچھ بنایا نہیں ہے اب کی بار

۱۵

رات کو آگ اور دن کو دُھوپ!بھاڑ میں جائیں ایسے لَیل و نہار!

۱۶

آگ تاپے کہاں تلک اِنساندُھوپ کھاوے کہاں تلک جان دار

۱۷

دُھوپ کی تابِش، آگ کی گرمی!وَقِنَا رَبَّنَا عَذَابَ النَّار!

۱۸

میری تنخواہ جو مقرر ہےاُس کے ملنے کا ہے عجب ہنجار

۱۹

رسم ہے مُردے کی چھ ماہی ایکخلق کا ہے اِسی چلن پہ مدار

۲۰

مجھ کو دیکھو تو، ہُوں بہ قیدِ حیاتاور چھ ماہی ہو سال میں دوبار!

۲۱

بس کہ لیتا ہوں ہر مہینے قرضاور رہتی ہے سُود کی تکرار

۲۲

میری تنخواہ میں تہائی کاہو گیا ہے شریک ساہُو کار

۲۳

آج مجھ سا نہیں زمانے میںشاعرِ نغز گوئے خوش گُفتار

۲۴

رزم کی داستان گر سُنیےہے زباں میری تیغِ جوہر دار

۲۵

بزم کا التزام گر کیجےہے قلم میری ابرِ گوہر بار

۲۶

ظُلم ہے گر نہ دو سُخن کی دادقہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار

۲۷

آپ کا بندہ اور پِھروں ننگا؟آپ کا نوکر اور کھاؤں اُدھار؟

۲۸

میری تنخواہ کیجے ماہ بہ ماہتا، نہ ہو مجھ کو زندگی دُشوار

۲۹

ختم کرتا ہُوں اب دُعا پہ کلام:(شاعری سے نہیں مجھے سروکار)

۳۰

تُم سلامت رہو ہزار برسہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

۲۵۹ / ۳۰۷