دیوانِ غالبقصائد

در مدحِ شاہ

۱

اے شاہِ جہاں گیر جہاں بخشِ جہاں دارہے غیب سے ہر دم تجھے صد گُونہ بشارت

۲

جو عُقدۂ دُشوار کہ کوشش سے نہ وا ہواتو وَا کرے اُس عُقدے کو، سو بھی بہ اشارت

۳

ممکن ہے، کرے خضر سکندر سے ترا ذکرگر لب کو نہ دے چشمۂ حیواں سے طہارت

۴

آصف کو سُلیماں کی وزارت سے شرف تھاہے فخرِ سُلیماں، جو کرے تیری وزارت

۵

ہے نقشِ مُریدی ترا، فرمانِ الٰہیہے داغِ غُلامی تِرا، توقیعِ امارت

۶

تُو آب سے گر سلب کرے طاقتِ سیلاںتو آگ سے گر دفع کرے تابِ شرارت

۷

ڈُھونڈے نہ مِلے موجۂ دریا میں روانیباقی نہ رہے آتشِ سوزاں میں حرارت

۸

ہے گر چہ مجھے نُکتہ سرائی میں توغُلہے گرچہ مجھے سحر طرازی میں مہارت

۹

کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دُعا پرقاصر ہے ستائش میں تِری، میری عبارت

۱۰

نَو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیںنظارگیٔ صنعتِ حق اہلِ بصارت

۱۱

تجھ کو شرفِ مہرِ جہان تاب مُبارک!غالبؔ کو ترے عتبۂ عالی کی زیارت!

۲۵۸ / ۳۰۷