دیوانِ غالبقطعات

ہائے ہائے

۱

کلکتے کا جو ذکر کیا تُو نے ہم نشیں!اِک تِیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

۲

وہ سبزہ زار ہائے مُطرّا کہ، ہے غضب!وُہ نازنیں بُتانِ خود آرا کہ ہائے ہائے!

۳

صبر آزما وہ اُن کی نگاہیں کہ حف نظر!طاقت رُبا وہ اُن کا اشارا کہ ہائے ہائے!

۴

وہ میوہ ہائے تازۂ شیریں کہ، واہ واہوہ بادہ ہائے نابِ گوارا کہ ہائے ہائے!

۲۷۱ / ۳۰۷