طائرِ دل
اٹھا اک دن بگولا سا جو کچھ، مَیں جوشِ وحشت میںپھرا آسیمہ سر، گھبرا گیا تھا جی بیاباں سے
Editors' notes
قطعہ: یہ قطعہ رسالہ مخزن اپریل ۱۹۰۷ء میں اِس تمہید کے ساتھ شائع ہوا تھا: "تھوڑے دن ہوئے میجر سید حسن صاحب بلگرامی سے تذکرہ شعرا ہو رہا تھا جس میں انہوں نے غالبؔ کا ایک قطعہ سنایا۔ قطعے کے عمدہ ہونے میں کیا شک ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ان کے اس بیان نے کہ یہ قطعہ ان کے والدِ مرحوم سے ان کو پہنچا اور اب تک غالبؔ کے کسی کلام میں شائع نہیں ہوا، اس کی خوبی زیادہ کر دی۔ میں نے اسے لکھ لیا اور ان کی اجازت سے مخزن کو بھیجتا ہوں۔ شیداؔ از کیمبرج۔" — نسخۂ رضامصرع: چند نسخوں میں یہ مصرع یوں درج ہے: ؏ اٹھا اک دن بگولہ سا جو تھا کچھ جوشِ وحشت میں — اعجاز عبید
About this couplet
This is couplet 1 of 7 in “طائرِ دل” in the section Qitas, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۷