دیوانِ غالبقطعات

طائرِ دل

۱

اٹھا اک دن بگولا سا جو کچھ، مَیں جوشِ وحشت میںپھرا آسیمہ سر، گھبرا گیا تھا جی بیاباں سے

۲

نظر آیا مجھے اک طائرِ مجروح پَر بستہٹپکتا تھا سرِ شوریدہ دیوارِ گلستاں سے

۳

کہا میں نے کہ "او گمنام! آخر ماجرا کیا ہےپڑا ہے کام تجھ کو کس ستم گر آفتِ جاں سے"

۴

ہنسا کچھ کھلکھلا کر پہلے، پھر مجھ کو جو پہچاناتو یہ رویا کہ جوئے خوں بہی پلکوں کے داماں سے

۵

کہا، "میں صید ہوں اُس کا کہ جس کے دامِ گیسو میںپھنسا کرتے ہیں طائر روز آ کر باغِ رضواں سے

۶

اسی کی زلف و رُخ کا دھیان ہے شام و سحر مجھ کونہ مطلب کُفر سے ہے اور نہ ہے کچھ کام ایماں سے"

۷

بہ چشمِ غور جو دیکھا، مِرا ہی طائرِ دل تھاکہ جل کر ہو گیا یوں خاک میری آہِ سوزاں سے

۲۷۶ / ۳۰۷