دیوانِ غالبرباعیات
کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں
۱
کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیںعُشّاق کی پُرسش سے اُسے عار نہیںجو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گاکیوں کر مانوں کہ اُس میں تلوار نہیں!
۲۹۴ / ۳۰۷
دیوانِ غالبرباعیات
کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیںعُشّاق کی پُرسش سے اُسے عار نہیںجو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گاکیوں کر مانوں کہ اُس میں تلوار نہیں!
۲۹۴ / ۳۰۷