کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں
کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیںعُشّاق کی پُرسش سے اُسے عار نہیںجو ہاتھ کہ ظلم سے اٹھایا ہو گاکیوں کر مانوں کہ اُس میں تلوار نہیں!
About this couplet
This is couplet 1 of 1 in “کہتے ہیں کہ اب وہ مَردُم آزار نہیں” in the section Rubaiyat, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۱