دیوانِ غالبسلام

سلام

۱

سلام اسے کہ اگر بادشہ کہیں اُس کوتو پھر کہیں کچھ اِس سے سوا کہیں اُس کو

۲

نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستائش ہےکہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس کو

۳

خدا کی راہ میں ہے شاہی و خسروی کیسی؟کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس کو

۴

خدا کا بندہ، خداوندگار بندوں کااگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو؟

۵

فروغِ جوہرِ ایماں، حسین ابنِ علیکہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اُس کو

۶

کفیلِ بخششِ اُمّت ہے، بن نہیں پڑتیاگر نہ شافعِ روزِ جزا کہیں اُس کو

۷

مسیح جس سے کرے اخذِ فیضِ جاں بخشیستم ہے کُشتۂ تیغِ جفا کہیں اُس کو

۸

وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل، سبیلشہیدِ تشنہ لبِ کربلا کہیں اُس کو

۹

عدو کی سمعِ رضا میں جگہ نہ پائے وہ باتکہ جنّ و انس و ملَک سب بجا کہیں اُس کو

۱۰

بہت ہے پایۂ گردِ رہِ حسین بلندبہ قدرِ فہم ہے گر کیمیا کہیں اُس کو

۱۱

نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرّۂ خاککہ لوگ جوہرِ تیغِ قضا کہیں اُس کو

۱۲

ہمارے درد کی یا رب کہیں دوا نہ ملےاگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اُس کو

۱۳

ہمارا منہ ہے کہ دَیں اس کے حسنِ صبر کی دادمگر نبی و علی مرحبا کہیں اُس کو

۱۴

زمامِ ناقہ کف اُس کے میں ہے کہ اہلِ یقیںپس از حسینِ علی پیشوا کہیں اُس کو

۱۵

وہ ریگِ لقمۂ وادی میں خامہ فرسا ہےکہ طالبانِ خدا رہنما کہیں اُس کو

۱۶

امامِ وقت کی یہ قدر ہے کہ اہلِ عنادپیادہ لے چلیں اور ناسزا کہیں اُس کو

۱۷

یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیںعلی سے آگے لڑے اور خطا کہیں اُس کو

۱۸

یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہبُرا نہ مانیے گر ہم بُرا کہیں اُس کو

۱۹

علی کے بعد حسن اور حسن کے بعد حسینکرے جو ان سے بُرائی، بھلا کہیں اُس کو؟

۲۰

نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد، کافر ہےرکھے امام سے جو بغض، کیا کہیں اُس کو؟

۲۱

بھرا ہے غالبِؔ دل خستہ کے کلام میں دردغلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اُس کو

۲۶۴ / ۳۰۷