دیوانِ غالبسہرے
خوش ہو اے بخت
خوش ہو اے بخت کہ ہے آج تِرے سر سہراباندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا
کیا ہی اِس چاند سے مُکھڑے پہ بھلا لگتا ہے!ہے تِرے حُسنِ دل افروز کا زیور سہرا
سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرفِ کُلاہمجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے تِرا لمبر سہرا
ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتیورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتیتب بنا ہو گا اِس انداز کا گز بھر سِہرا
رُخ پہ دُولہا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکاہے رگِ ابرِ گُہر بار سَراسَر سِہرا
یہ بھی اِک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائےرہ گیا آن کے دامن کے برابر سِہرا
جی میں اِترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اِک چیزچاہیے پُھولوں کا بھی ایک مُقرّر سہرا
جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارےگوندھے پُھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سِہرا
رُخ روشن کی دَمک، گوہرِ غلتاں کی چمککیوں نہ دکھلائے فرُوغِ مہ و اختر سہرا
تار ریشم کا نہیں، ہے یہ رَگِ ابرِ بہارلائے گا تابِ گراں باریٔ گوہر سِہرا!
ہم سُخن فہم ہیں، غالبؔ کے طرف دار نہیںدیکھیں، اس سہرے سے کہہ دے کوئی بڑھ کر سہرا!
۲۶۵ / ۳۰۷