نوائے سروشغزلیات
جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیں
۱
جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیںاُور اس کے سواکچھ نہیں معلوم کہ کیا ہیں
۲
اک سرحدِ معدوم میں ہستی ہے ہماریسازِ دل بشکستہ کی بے کار صدا ہیں
۳
جس رخ پہ ہوں ہم، سجدہ اسی رخ پہ ہے واجبگو قبلہ نہیں ہیں مگر اک قبلہ نما ہیں
۴
مت ہوجیو اے سیلِ فنا ان سے مقابلجانبازِ الم نقش بہ دامانِ بقا ہیں
۵
پایٔ ہے جگہ ناصیۂ بادِ صبا پرخاکستر پروانۂ جانبازِ فنا ہیں
۶
ہر حال میں ہیں مرضیٔ صیّاد کے تابعہم طائرِ پر سوختہ رشتہ بہ پا ہیں
۷
اے وہم طرازانِ مجازی و حقیقیعشّاق فریبِ حق و باطل سے جدا ہیں
۸
ہم بے خودیٔ شوق میں کرلیتے ہیں سجدےیہ ہم سے نہ پوچھو کہ کہاں ناصیہ سا ہیں
۹
اب منتظرِ شوقِ قیامت نہیں غالبؔدنیا کے ہر ذرّے میں سو حشر بپا ہیں
۵ / ۲۰